ابنا: روسی وزیر خارجہ سرگی لاروف نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ جب بھی شام کے حالات ٹھیک ہونے کی اُمید پیدا ہوتی ہے تو کوئی ان جھگڑوں کو ہوا دیتا ہے اور خانہ جنگی اور خونریزی بڑھ جاتی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگی لاروف نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ شام کا صدر ایران کا حامی ہے، اس وجہ سے اسے قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔ان کا مذید کہنا تھا بعض مغربی ممالک شام میں موجود مسلح تنظیموں کو اس بات کے لئے اکسا رہے ہیں کہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے نام پر صدر بشارالاسد کی حکومت ختم ہونے تک لڑتے رہو۔ اس جاری تنازع کے پیچھے بڑی قوتوں کا ہاتھ ہے۔ مغرب اور عرب ممالک اپنے مفادات کے لئے مشرق وسطٰی کا نقشہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ روس اور چین اس خونریزی کو روکنا چاہتے ہیں۔روس کے وزیر خارجہ نے کچھ دن قبل بھی کہا تھا کہ مغربی طاقتیں، مسلح اپوزیشن پر شامی حکومت کے کریک ڈاؤن کیخلاف، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے ممکنہ پابندیوں کی حمایت کے لئے اسے بلیک میل کر رہی ہیں۔ وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہاتھا کہ انتہائی افسوس ہے کہ کچھ عناصر ہمیں بلیک میل کر رہے ہیں۔یاد رہے مغرب نے روس سے کہا تھا کہ وہ اقدامات کی حمایت کرے یا وہ اقوام متحدہ مبصر مشن کے مینڈیٹ میں توسیع سے انکار کر دے گا۔ سرگئی لاروف نے کہا تھاکہ روس سے صدر بشارالاسد کو مستعفی ہونے کے لئے مجبور کرنے کے مطالبات غیر حقیقی ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لاروف نے کہا کہ یہ غیر حقیقی ہے، شام کے صدر اقتدار نہیں چھوڑیں گے اور یہ اس وجہ سے نہیں کہ ہم اس کو تحفظ دے رہے ہیں بلکہ شامی آبادی کا ایک قابل قدر حصہ اس کا حامی ہے۔ اسی موضوع پر ہم نے پاکستان میں مشرق وسطی کے امور کے ماہر ایڈوکیٹ ناصر شیرازی سے گفتگو کی ہے ۔انہوں نےشام سے متعلق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا : ( انٹرویو سننے کے لئے نیچے میڈیا پلیئر پر کلک کیجئے ) شام کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ امریکہ، یورپ ، ترکی ،سعودی عرب۔قطراور اسکے اتحادی شام کے عوام کے حامی ہیں بلکہ وہ اپنے سامراجی مقاصد کے حصول کے لئے بشار اسد کو اقتدار سے الگ کرنا چاہتے ہیں اس سے پہلےشام کے صدر بشار الاسد نے بھی پارلیمنٹ میں اپنے پالیسی بیان میں کہا تھا کہ ان کے ملک کو ایک بیرونی منصوبے کے تحت تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہاتھا کہ شام کو کسی سیاسی مسئلے کا سامنا نہیں بلکہ ملک میں دہشت گردی کے ذریعے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی جا رہی ہے، انھوں نے کہا کہ اصل مسئلہ دہشت گردی کا ہے، انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ بیرونی قوتیں باالخصوص امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب شام میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں اور یہ بات سب پر عیاں ہے کہ دہشت گردوں کو بیرونی امداد حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت ان عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برت سکتی جو بیرونی قوتوں کے اشارے پر کام کر رہے ہیں۔ بہرحال روسی وزیر خارجہ سرگی لاروف کے حالیہ بیان اور امریکی فوجی حکام کے ترکی کے حالیہ دورہ جات نےسبھی پر عیاں کردیاہے کہ شام کابحران، غیرملکی سازشوں اورمداخلتوں کانتیجہ ہے۔مغربی ممالک اورعلاقےميں ان کےآلہ کارعرب ممالک کےحمایت یافتہ دہشتگردوں نےشام کےبعض شہروں میں بدامنی پیداکررکھی ہے اوریہ کوشش کررہے ہيں کہ عوام اورسیکورٹی اہلکاروں کاقتل عام کرکےدمشق کوتشدد کاذمہ دار قراردیں اورشام میں غیرملکی فوجی مداخلت کی زمین ہموارکریں۔یہ ایسےحالات میں ہےکہ قطر، سعودی عرب ، صیھونی حکومت، امریکہ بالخصوص ترکی سمیت مغربی فریقوں نے حالات سےناجائزفائدہ اٹھاتےہوئے، صیہونی حکومت کےخلاف استقامت وپائداری کامظاہرہ کرنےوالےملک شام کی حکومت کاتختہ الٹنےکےلئےاپنی کوششوں میں سرعت پیدا کردی ہے....../169
24 اکتوبر 2012 - 20:30
News ID: 359477
روس نے شام میں جاری تنازع کو مشرق وسطٰی میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کی کڑی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس خونیں کھیل میں وہ قوتیں ملوث ہیں جو مشرق وسطٰی کا نقشہ تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔